اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کل مسجد امام رضا علیہ السلام کو آگ لگا دی گئی جس کی وجہ سے مسجد کے امام جماعت اور امام رضا تعلیمی مرکز کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین جناب عبداللہ دہدوہ شہید ہوگئے، ایک نمازی زخمی ہوگیا اور مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔ علاوہ ازیں امام رضا (ع) و مرکز کو بھی سلفی شدت پسندوں کی طرف سے متعدد دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے۔ تفصیلات: بلجئيم مغربی یورپ کا ملک ہے جس میں بادشاہی نظام حکومت ہے۔ اس ملک کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب ہے اور اس ملک کی مسلم آبادی 4 لاکھ اور ان چار لاکھ میں سے ایک لاکھ بیس ہزار افراد شیعہ ہیں۔بلجیئم کے شیعہ اپنے دینی مراسمات و عبادات عام طور پر چار مساجد میں انجام دیتے ہیں جن میں امام رضا (ع) سب سے بڑی مسجد ہے جہاں سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ یہ مسجد اندرلخت (Anderlecht) نامی علاقے میں واقع ہے اور اندرلخت بیرونی تارکین وطن کا علاقہ سمجھا جاتا ہے اور اس علاقے کی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصے سے اس علاقے میں سلفیوں کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی کوششیں ہورہی ہیں اور سلفی اپنی مساجد سے اہل تشیع کے خلاف معاندانہ تشہیری مہم چلا رہے ہیں جبکہ مسجد و مرکز کی اہم شخصیات کو ابھی تک کئی بار شدت پسند سلفیوں کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برسلز میں سرگرم عمل وہابی دہشت گرد عراقی مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث سلفی دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور وہ فرقہ وارانہ افکار کو مشرق وسطی سے بلجئیم میں منتقل کررہے ہیں۔دنیا بھر میں امریکہ و اسرائیل کے اشارے پر اور اسلام کو بدنام کرنے کی خاطر دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے تشدد پسند وہابیوں نے کل رات مسجد امام رضا (ع) کو آگ لگادی، مسجد کے امام شہید ہوگئے اور کئی نمازی زخمی ہوئے جبکہ وہابیوں کی دھمکیوں کی وجہ سے مسجد پولیس کی حفاظت میں تھی۔مسجد کے ایک راہنما "عزالدین لغمیش" مسجد پر حملے کی روداد کچھ یوں بیان کرتے ہیں: "حملہ آور دہشت گرد مسجد میں داخل ہوا اور مسجد میں پٹرول چھڑکا اور اس کو آگ لگا دی اور فرار ہونے کی کوشش بھی کی لیکن نمازیوں نیز راہگیروں نے اس کو فرار نہیں ہونے دیا اور پولیس اہلکاروں نے اسے گرفتار کرلیا تاہم مسجد کو آگ لگ گئی اور امام مسجد شیخ عبداللہ دہدوہ نے ایک اور نمازی کے ہمراہ آگ کو بجھانے کی کوشش کی لیکن وہ آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے اور مسجد پوری مسجد میں پھیل گئی اور دہویں کی شدت کی وجہ سے شیخ دہدوہ کا دم گھٹ گیا لیکن ان کے ساتھی مسجد سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔انھوں نے حملہ آور دہشت گرد کے حملے کے محرکات کے بارے میں کہا: حملہ آور مسجد کو آگے لگاتے وقت وہی نعرے لگا رہا تھا جو سلفی دہشت گرد اہل تشیع کے خلاف لگاتے ہیں اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ایک سلفی تشدد پسند ہے اور پھر حال ہی میں برسلز کی بعض مساجد سے اہل تشیع کے خلاف اشتعال انگيز خطبے سنائی دے رہے تھے اور مسجد امام رضا علیہ السلام کو اس تشدد پسند ٹولے کی طرف سے کئی دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے تھے۔ بلجیئم کے مسلمانوں کی مجلس کی نائب سربراہ "ازابل برائلی" نے کہا ہے کہ اس سانحے کے اصل مجرم وہابی اور سلفی انتہاپسند ہیں۔ انھوں نے کہا: مسجد امام رضا علیہ السلام، برسلز میں اہل تشیع کی سب سے بڑی مسجد ہے جو تین سال قبل بھی سلفی تکفیریوں کی دھمکیوں کے بعد کافی عرصے تک پولیس کی حفاظت میں تھی۔بعض غیر رسمی ذرائع نے کہا ہے کہ شہید حجت الاسلام والمسلمین دہدود اسلامی جمہوریہ ایران کے حامی تھے اور شام کے خلاف مغربی ـ عربی سازش کے سخت خلاف تھے جس کی وجہ سے ان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بلجیئم کی وزیر داخلہ نے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اعمال انجام دینے کے لئے کسی قسم کا جواز موجود نہیں ہے اور اس سانحے نے ـ جو بلجیئم کے ایک مسلم باشندے کے قتل پر منتج ہوا ہے، ـ مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بلجیئم کے حکام، جو اس سانحے کے ذمہ دار ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ یہ حملہ ایک فرد واحد کی طرف سے نہیں تھا بلکہ اس حملے کی پشت پر کئی گروہ ہیں لیکن اس کے باوجود اس تحقیقات میں تمام امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔/110
برسلز کے امام جماعت تکفیریوں کے حملے میں شہید / باتصویرclick
برسلز کے امام جماعت کے قتل پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا مذمتی بیانclick